ذہنی کشمکش
معنی
١ - دماغی الجھن، تذبذب۔ "سجاد ظہیر نے اُن کی (اپنے ناولٹ "لندن کی رات" کے کردار) کا بھی تجزیہ کیا ہے اور اس ذہنی کشمکش کا جائزہ لیا ہے جس میں اس وقت کا نوجوان طبقہ گرفتار تھا۔" ( ١٩٧٠ء، آجکا اردو ادب، ٢٠٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق صفت 'ذِہْنی' کے ساتھ فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کَشْمکَش' ملانے سے مرکب نسبتی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٧٠ء کو "آج کا اُردو ادب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دماغی الجھن، تذبذب۔ "سجاد ظہیر نے اُن کی (اپنے ناولٹ "لندن کی رات" کے کردار) کا بھی تجزیہ کیا ہے اور اس ذہنی کشمکش کا جائزہ لیا ہے جس میں اس وقت کا نوجوان طبقہ گرفتار تھا۔" ( ١٩٧٠ء، آجکا اردو ادب، ٢٠٢ )